پٹنہ،7؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کا عمل پورا ہونے کے بعد دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کا اعلان کردیا ہے ۔ اس کے تحت 243؍ سیٹوں والی بہار اسمبلی کی 122؍سیٹیں جے ڈی یو کے حصہ میں آئی ہیں جس میں وہ اپنے کوٹہ میں سے 7؍ سیٹیں جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوامی مورچہ کو دے گی ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جے ڈی یو115؍ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی ۔ ادھر بی جے پی کے حصہ میں 121؍ سیٹیں گئی ہیں۔وہ اس میں سے 9؍ سیٹیں وکاس شیل انسان پارٹی کو دے گی اور اس طرح سے وہ خود 112؍سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔
اس سے ٹھیک پہلے بی جے پی کے کئی لیڈران وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تھے ۔ بی جے پی لیڈر اور بہار الیکشن کے انچارج دیویندر فرنویس ، بہار انچارج بھوپیندر یادو، نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی اور ریاستی بی جے پی صدر سنجے جیسوال کی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات ہوئی ۔سیٹوں کی تقسیم کی ڈیل فائنل ہونے سے پہلے بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں نےبھی نتیش کمار سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد سنجے جیسوال نے چراغ پاسوان کو واضح پیغام دیا کہ اگر وہ نتیش کمار کی قیادت قبول نہیں کرتے ہیں تو انہیں این ڈی اے سے بھی الگ ہونا پڑے گا ۔ اس کے بعد دونوں پارٹیوںکےدرمیان سیٹوں کی تقسیم کا اعلان کردیا ہے جس میں دونوں ہی پارٹیوں نے تقریباً برابر برابر سیٹیں بانٹ لی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی اتحادی پارٹیوں کو بھی کچھ سیٹیں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح سے بی جے پی اور جے ڈی یو اتحاد نے رام ولاس پاسوان کی پارٹی کے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے۔
ادھر این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم کا اعلان ہوتے ہی ایل جے پی لیڈر چراغ پاسوان نے بڑا اعلان کردیا ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ اگلی حکومت بنتے ہی ’سات نشچئے‘ میں ہونےوالی بدعنوانی کی جانچ کرکے سبھی قصورواروں کو جیل بھیجا جائے گا اور زیر التوا رقم کی فورا ادائیگی کی جائے گی۔